عید الفطر کے موقع پر فرزندان اسلام کی طرف سے اپنے پیاروں، رشتہ داروں، عزیزو اقارب، دوست و احباب اور مختلف مکاتب فکر کے اہم افراد کو عید کارڈز ارسال کرنے کی صدیوں پرانی روایت دم توڑ گئی ہے جبکہ اب عید کارڈز کی جگہ موبائل فونز کی ایس ایم ایس میسیجنگ و ایم ایم ایس اور واٹس ایپ سروس نے لے لی ہے نیزمختلف موبائل فون کمپنیوں نے اپنے صارفین کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کیلئے بے شمار پیکیج متعارف کروائے ہیں جوسستے اور برق رفتار ہونے کے باعث عید کارڈزکی نسبت فوری طور پر متعلقہ افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔
اس طرح موبائل فونز سروس نے عید کارڈز کا صدیوں پرانا کاروبار ٹھپ کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نصف گزر جانے کے باوجود تاحال فیصل آباد سمیت نواحی شہروں میں عید کارڈز کے سٹال نظر نہ آئے ہیں جبکہ قبل ازیں رمضان المبارک شروع ہوتے ہی جگہ جگہ یہ سٹال سجنا شروع ہو جاتے تھے۔عید کارڈز کا کاروبار ٹھپ ہونے کے باعث جہاں ہزاروں افراد کا روز گار ختم ہو گیا ہے وہیں محکمہ ڈاکخانہ جات کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ عید کارڈز کی ترسیل کے دوران ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ختم ہو کررہ گئی ہے۔
دوسری جانب ڈاکیوں کی عید وصولی بھی مندا کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ ڈاکیوں کی اکثریت عید الفطر کے موقع پر عید کارڈز اپنے پاس محفوظ کر لیتی تھی اور یہ عید کارڈز عیدالفطر سمیت ٹرو و مرو کے روز متعلقہ لوگوں میں تقسیم کر کے انہیں عید کی مبارک باد دینے سمیت عید ی بھی وصول کی جاتی تھی۔

