فیصل قریشی نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ ان کا نام ستارۂ امتیاز کے لیے دو مرتبہ بھجوایا گیا، تاہم دونوں مواقع پر انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے اس صورتحال پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے شوبز انڈسٹری میں خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں تاحال اس اعزاز سے نہیں نوازا گیا۔اداکار نے گفتگو میں ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ وہ بطور احتجاج کسی “امتیاز” نامی مقام پر کھڑے ہو کر کریں گے کہ وہ موجود ہیں، مگر انہیں کوئی “ستارہ” نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں اور یہ سوال ان کے ذہن میں بارہا آتا ہے کہ آخر انہیں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔فیصل قریشی نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنے کام کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں یہ اعزاز دیا جاتا ہے تو وہ اسے اعزاز سمجھتے ہوئے ضرور قبول کریں گے۔
اداکار نے مزید بتایا کہ ان کے مداح بھی مسلسل ان کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں اور متعدد افراد نے متعلقہ حکام کو درخواستیں اور ای میلز بھی ارسال کیں۔
سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی بڑی تعداد نے فیصل قریشی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طویل اور شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں قومی اعزاز سے نوازا جانا چاہیے۔

