ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے پاکستانی ٹیم کا ہوٹل تبدیل کرنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے رجوع کرلیا۔ جس ہوٹل میں قومی ٹیم کو ٹھہرنا تھا وہ سٹیڈیم سے 90 منٹ کے فاصلے پر تھامحسن نقوی نے آئی سی سی کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہماری ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کسی میچ کے لیے زیادہ فاصلہ طے نہیں کرے گی اور کسی مناسب جگہ پر منتقل ہو جائے گی۔
پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے آئی سی سی پر واضح کر دیا ہے کہ قومی ٹیم ان کی ذمہ داری ہے اور وہ ہر صورت کھلاڑیوں کے آرام کو یقینی بنائیں گےنیویارک میں پاکستانی ٹیم نے 9 جون کو بھارت اور 11 جون کو کینیڈا سے مقابلہ کرنا ہے۔اس سے قبل دوسری ٹیموں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے سری لنکا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو سہولیات فراہم کرنے پر اعتراض کیا تھا۔
سری لنکا، جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ کی ٹیموں نے امریکہ میں سفری رکاوٹوں اور ناقص انفراسٹرکچر سسٹم پر آئی سی سی کو شکایت درج کرائی، جس میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا اور آئرش ٹیم کے کھلاڑیوں کی فلوریڈا سے نیویارک کے سفر کے دوران چارٹر فلائٹ اڑائی گئی۔ 7 گھنٹے تاخیر سے پہنچے جس پر انہیں کوئی اپ ڈیٹ فراہم نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب سری لنکن ٹیم کے کپتان وینندو ہسرنگا اور کھلاڑی مہیش تھیکشنا نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں شکست کے بعد پریزنٹیشن میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
اس حوالے سے مہیش تھکشنا کا کہنا تھا کہ یہ سب انتہائی ناانصافی ہے، ہمیں ہر میچ کے بعد سفر کرنا پڑتا ہے، ہمیں پروازوں کے لیے بھی 8 گھنٹے انتظار کرنا پڑا اور سفری لاجسٹکس کی وجہ سے نیویارک میں اپنا ٹریننگ سیشن بھی منسوخ کر دیا۔ ہوٹل وینیو سے ایک گھنٹہ 40 منٹ کی دوری پر تھا، ہمیں صبح 5 بجے اٹھنا تھا، میں نام نہیں بتاؤں گا لیکن کچھ ٹیموں کے ہوٹل 14 منٹ کی دوری پر ہیں جبکہ کچھ ٹیمیں اپنے تمام میچ ایک ہی مقام پر کھیل رہی ہیں
کپتان وینندو ہسرنگا نے کہا کہ ‘یہ ہمارے لیے ایک مشکل دن ہے، 4 مختلف مقامات پر 4 میچز جو کہ مشکل ہے، ہمیں کنڈیشنز کا کوئی اندازہ نہیں ہے’۔

