پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے بعد امریکا ، اسرائیل اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی دو ہفتے کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کر لیا۔ جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں، بمباری اورحملے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری، ٹرمپ نے 2 ہفتے کی جنگ بندی قبول کرلی
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد درخواست کی تھی کہ آج رات ایران پر بھیجے جانے والے تباہ کن حملے کو روک دیا جائے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کیلئے دی کنٹری آف ایران کے متبادل کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کا استعمال کیا۔
امریکا ایران مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے،امریکی میڈیا کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور ان سے آگے نکل چکے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن کے بارے میں ایک واضح معاہدے کی طرف بہت آگے بڑھ چکے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں امن کا باعث بنے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کی طرف سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور وہ اسے بات چیت کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھتے ہیں۔

